نیویارک میں اس سال پڑنے والی شدید سردی اور 20 انچ سے زائد برفباری نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور شہر بھر میں مشکلات بڑھا دی ہیں۔ نیویارک اسٹیٹ کمپٹرولر کی ویب سائٹ پر موجود این وائی سی 311 مانیٹرنگ سسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں سب سے بڑا مسئلہ رہائشی عمارتوں میں ہیٹنگ اور گرم پانی کی عدم دستیابی رہا۔ ہزاروں شہری شدید سردی میں خود کو گرم رکھنے کے لیے مشکلات کا شکار رہے۔

رپورٹ کے مطابق شہر کے پانچوں بورو سے ہیٹ اور گرم پانی سے متعلق تقریباً 59 ہزار شکایات درج کی گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ان شکایات میں سب سے زیادہ تعداد مین ہیٹن اور برونکس سے سامنے آئی۔ شدید سردی جان لیوا بھی ثابت ہوئی۔ سٹی حکام کے مطابق مجموعی طور پر 27 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں سے 20 افراد کھلے آسمان تلے سردی کی شدت برداشت نہ کر سکے جبکہ 7 افراد اپنے گھروں کے اندر ہی سرد موسم کے باعث دم توڑ گئے۔

فروری کے آخر میں آنے والے برفانی طوفان کے اثرات کئی دن تک برقرار رہے۔ طوفان گزرنے کے تین دن بعد بھی اسٹیٹن آئی لینڈ جیسے علاقے تقریباً دو فٹ برف تلے دبے رہے، جس سے بحالی کے عمل کی سست روی ظاہر ہوتی ہے۔ ہیٹنگ کے مسئلے کے علاوہ دیگر شہری مسائل میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ غیر قانونی پارکنگ سے متعلق شکایات میں 4 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر بروکلین اور کوئنز میں، جہاں مجموعی طور پر تقریباً 35 ہزار شکایات درج ہوئیں۔اسی طرح برف ہٹانے اور طوفان کے بعد کی خدمات سے متعلق کالز میں حیران کن طور پر 3427 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہری نظام پر کتنا زیادہ دباؤ پڑا۔ سٹی ہال کی جانب سے تاحال اس ڈیٹا یا شہریوں کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
