امریکہ کے مختلف حصوں میں پیر کے روز آنے والے شدید طوفانوں نے فضائی سفر کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 12 ہزار 500 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کر دی گئیں۔ خاص طور پر مشرقی ساحلی علاقوں اور دیگر بڑے شہروں کے ہوائی اڈے شدید موسمی حالات کی زد میں رہے۔
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے خطرے کے پیش نظر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے نیویارک کے اہم ہوائی اڈوں، لاگارڈیا، جان ایف کینیڈی اور نیوارک لبرٹی پر تاخیر کا نظام نافذ کیا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن ریگن نیشنل، اورلینڈو، شارلٹ، اٹلانٹا اور ہیوسٹن کے بش انٹرکانٹینینٹل ایئرپورٹ پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئیں۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی کے مطابق یہ خراب موسم ملک بھر میں پروازوں کو متاثر کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایک شدید برفانی طوفان نے مڈویسٹ اور گریٹ لیکس کے علاقوں میں بھی فضائی نظام کو درہم برہم کر دیا۔

اس سے قبل ریگن نیشنل، شکاگو اوہیر اور شارلٹ کے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ اسٹاپ نافذ کیے گئے تھے، جنہیں بعد میں ختم کر دیا گیا۔ تاہم ہیوسٹن کے بش انٹرکانٹینینٹل اور بالٹی مور واشنگٹن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یہ پابندیاں برقرار رہیں۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق دوپہر تک 8 ہزار 500 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار جبکہ تقریباً 4 ہزار منسوخ ہو چکی تھیں۔ امریکن ایئرلائنز، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز اور ڈیلٹا ایئر لائنز کی تقریباً 45 فیصد پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کی 36 فیصد پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار رہیں۔بڑے ہوائی اڈوں میں اٹلانٹا میں 57 فیصد، شکاگو اوہیر میں 51 فیصد اور لاگارڈیا میں بھی 57 فیصد پروازیں متاثر ہوئیں۔
صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن ڈی سی میں وفاقی ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ دوپہر دو بجے تک دفاتر چھوڑ دیں تاکہ خراب موسم کے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
