ہیوسٹن سٹی کونسل نے شدید اختلافات کے باوجود طوفانی پانی سے بچاؤ کے فنڈ سے تیس ملین ڈالر استعمال کرتے ہوئے مخدوش اور خطرناک عمارتوں کو منہدم کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ اس فیصلے سے قبل میئر جان وٹمائر اور سٹی کنٹرولر کرس ہالنس کے درمیان کھلا اختلاف سامنے آیا۔ ووٹنگ سے پہلے کرس ہالنس نے کونسل ارکان کو بتایا کہ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ شہر میں مخدوش عمارتیں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا قانون شہر کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ محدود نوعیت کے طوفانی پانی کے فنڈز عمارتوں کے انہدام پر خرچ کرے۔ ان کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ میئر جان وٹمائر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کنٹرولر پر الزام لگایا کہ انہوں نے مالیاتی رپورٹ کے دوران سیاسی گفتگو اور گمراہ کن معلومات پیش کیں۔ میئر کا کہنا تھا کہ کونسل نے ایک ایسا طرزِ عمل دیکھا جو محض سیاست اور توجہ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ ہیوسٹن پبلک ورکس کے مطابق شہر بھر میں دو ہزار تین سو سے زائد مخدوش عمارتیں انہدام کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنی عمارتیں براہِ راست نکاسیٔ آب کے نظام سے جڑی ہیں، تاہم محکمے کا مؤقف ہے کہ خستہ حال عمارتیں غیر قانونی کچرا پھینکنے، ملبہ جمع ہونے اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں، جس سے سیلابی خطرات بڑھتے ہیں۔

کونسل کی بجٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پبلک ورکس کے ڈائریکٹر رینڈی میکی نے بتایا کہ محکمہ ایک ایسا طریقہ کار تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ آیا کسی عمارت کا براہِ راست تعلق نکاسیٔ آب میں رکاوٹ سے ہے یا نہیں۔ میئر آفس کی جانب سے جاری کردہ معیار کے مطابق، اگر کوئی عمارت سیلابی زون میں واقع ہو، نکاسیٔ آب کے نظام کے قریب ہو، پانی کے بہاؤ یا ملبے کی وجہ سے شدید رکاوٹ پیدا کر رہی ہو، یا ایسے علاقے میں ہو جسے پبلک ورکس نے نکاسیٔ آب سے متاثرہ قرار دیا ہو، تو وہ طوفانی پانی کے فنڈز سے انہدام کے لیے اہل ہوگی۔ کئی کونسل ارکان نے ان شرائط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معیار حد سے زیادہ وسیع ہیں۔ کونسل رکن ایبی کیمن نے کہا کہ یہ شرائط شہر کی بڑی تعداد میں موجود جائیدادوں پر لاگو ہو سکتی ہیں، جس سے ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔ شہری حکام کے مطابق ہر انہدام سے قبل انسپکٹرز کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس اقدام سے نکاسیٔ آب کی صلاحیت بہتر ہوگی، پانی کے بہاؤ میں کمی آئے گی یا مقامی سطح پر سیلابی خطرات کم ہوں گے۔ طوفانی پانی کا فنڈ حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے اور اس سال ایک سو چھیاسٹھ ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ تقریباً ایک سو ملین اور اس سے پہلے اسی ملین ڈالر سے بھی کم تھا۔ جون میں منظور ہونے والے بجٹ میں خطرناک عمارتوں کے انہدام کے لیے فنڈنگ کے ساتھ ساتھ نکاسیٔ آب کے نظام کی دیکھ بھال اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی بڑی رقم مختص کی گئی تھی۔ جب شہر کسی مخدوش عمارت کو منہدم کرتا ہے تو اخراجات کی وصولی کے لیے متعلقہ جائیداد پر قانونی واجب الادا رقم عائد کی جاتی ہے۔ اس منصوبے کو پہلے مؤخر کیا گیا تھا جب کنٹرولر نے قانونی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے تھے اور ماضی میں شہری فنڈز کے غلط استعمال پر شہر کو ہونے والی عدالتی شکست کی مثال دی تھی۔ اگرچہ بعد ازاں اس معاملے میں تصفیہ ہو گیا، تاہم سماجی تنظیموں نے اس فیصلے اور نئے انہدامی منصوبے دونوں کی مخالفت کی۔

ویسٹ اسٹریٹ ریکوری اور نارتھ ایسٹ ایکشن کلیکٹو کے نمائندوں نے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام قانونی راستے اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فنڈز کا استعمال ان علاقوں سے وسائل چھیننے کے مترادف ہے جو پہلے ہی سیلاب سے متاثر ہو رہے ہیں۔ شہری وکیل آرتورو مشیل نے کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ یہ منصوبہ شہر کے چارٹر کے مطابق ہے اور کسی بھی عدالتی چیلنج میں کامیاب رہے گا۔ یہ تجویز نو کے مقابلے میں سات ووٹوں سے منظور ہوئی۔ بجٹ اور مالیاتی امور کمیٹی کی سربراہ سمیت کئی ارکان نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ طوفانی پانی کے فنڈز صرف بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہی استعمال ہونے چاہئیں۔ یہ اجلاس نومنتخب کونسل رکن الیخاندرا سالیناس کا پہلا باضابطہ ووٹ تھا۔ انہوں نے فنڈنگ کے طریقہ کار پر تحفظات کے باوجود کہا کہ وہ میئر کے ساتھ مل کر اس اہم مسئلے پر کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ منصوبے کے حامی ارکان نے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ قانونی اور پالیسی کے حوالے سے ایک مشکل قدم ہے، تاہم ان کے مطابق شہر میں موجود مخدوش عمارتیں عوامی تحفظ اور سیلابی خطرات کے پیش نظر فوری کارروائی کی متقاضی ہیں۔
