نیویارک سمیت امریکا کے شمال مشرقی علاقے شدید برفانی طوفان بلیزرڈ کی لپیٹ میں ہیں جس نے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موسمی ماہرین کے مطابق موجودہ طوفان عام برف باری نہیں بلکہ بلیزرڈ کی تمام شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔ بلیزرڈ اور سنو اسٹروم میں کیا ہے فرق ہے ؟ یہ سوال ان دنوں بہت گردش کررہا ہے۔ عموماً سنو اسٹروم یہ ایک عمومی اصطلاح ہے جس سے مراد کسی علاقے میں برف کا گرنا ہے۔ اس میں برف باری تو ہوتی ہے لیکن ہواؤں کی رفتار زیادہ تیز نہیں ہوتی اور حدِ نگاہ شدید متاثر نہیں ہوتی۔ بات کی جائے بلیزرڈ کی تو بلیزرڈ ایک مخصوص اور زیادہ خطرناک قسم کا برفانی طوفان ہوتا ہے۔

بلیزرڈ کے لیے ضروری ہے کہ ہواؤں کی رفتار کم از کم 35 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ ہو۔ برف یا اڑتی ہوئی برف کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو جائے۔ یہ صورتحال کم از کم 3 گھنٹے تک برقرار رہے ۔ اگر صرف برف باری ہو اور تیز ہوائیں شامل نہ ہوں تو اسے بلیزرڈ نہیں کہا جاتا۔ نیویارک سٹی اور گرد و نواح میں بلیزرڈ وارننگ جاری کی گئی ہے۔ موسمی اداروں کا کہنا ہے کہ تیز ہوائیں اور شدید برف باری اس طوفان کو خطرناک بنا رہی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے
