نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے ایک شدید اور تاریخی برفانی طوفان کے پیش نظر شہر بھر میں سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اتوار رات 9 بجے سے پیر دوپہر 12 بجے تک شہر کے بیشتر حصوں میں آمدورفت محدود رہے گی، جو اس طوفان کی سنگینی اور شہریوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں پیر کے روز تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس بار آن لائن کلاسز بھی نہیں ہوں گی۔ میئر ممدانی نے اسے مکمل روایتی برفانی تعطیل قرار دیا۔ جنوری میں آنے والے طوفان کے دوران آن لائن تعلیم کے فیصلے پر بعض والدین نے تنقید کی تھی کیونکہ بہت سے خاندانوں کو ورچوئل تعلیم میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نئے سال کے دن عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ دوسرا بڑا برفانی طوفان ہے جس کا سامنا 34 سالہ میئر کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے اقدامات کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ جنوری کے طوفان اور اس کے بعد آنے والی شدید سردی کے باعث کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ میئر نے اسکول بند کرنے کا اعلان ایک منفرد انداز میں کیا۔ انہوں نے ایک طالبہ وکٹوریہ کے ساتھ ویڈیو کال کی ریکارڈنگ شیئر کی جس میں انہوں نے خوش دلی سے اسے برفانی تعطیل کی خبر دی اور ہدایت کی کہ طوفان کے عروج کے دوران گھر کے اندر محفوظ رہے۔ طوفان تھمنے کے بعد برف میں کھیلنے کی اجازت بھی دی۔ طالبہ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اسکولوں کے علاوہ دیگر غیر ضروری سرکاری دفاتر اور عوامی خدمات، بشمول لائبریریاں، بھی بند رہیں گی۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہوگا۔ اسٹیٹن آئی لینڈ فیری سروس اتوار شام 5 بجے سے معطل کر دی جائے گی اور موسم بہتر ہونے پر پیر کی صبح دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔ شہری انتظامیہ نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ دو ہزار سے زائد برف ہٹانے والی مشینیں سڑکوں پر تعینات کی جائیں گی جیسے ہی برف دو انچ تک جمع ہوگی۔ دو ہزار چھ سو سے زائد محکمہ صفائی کے اہلکار 12 گھنٹے کی شفٹوں میں کام کریں گے تاکہ سڑکیں جلد از جلد صاف اور قابلِ استعمال بنائی جا سکیں۔

انتظامیہ کی توجہ کا ایک بڑا حصہ بے گھر افراد کے تحفظ پر مرکوز ہے، کیونکہ گزشتہ شدید سردی میں جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد بے گھر افراد کی تھی۔ کوڈ بلیو اقدامات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے، گرم مراکز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور منشیات سے بچاؤ کے مراکز کو بھی رات بھر کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز 84 افراد کو شیلٹرز میں منتقل کیا گیا۔ 311 ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی ایسی شکایات جو کھلے آسمان تلے موجود کمزور افراد سے متعلق ہوں گی، انہیں فوری کارروائی کے لیے 911 پر منتقل کیا جائے گا۔ اگرچہ انتظامیہ نے حال ہی میں بے گھر کیمپوں کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن میئر نے واضح کیا ہے کہ برفانی موسم کے دوران کوئی صفائی آپریشن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہے، نہ کہ انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات۔ میئر ممدانی مسلسل ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں سے رابطے میں ہیں اور انہیں ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ گھروں میں رہیں اور اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں جب تک کہ برفانی طوفان گزر نہیں جاتا۔
