ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد ایسے جعلی پناہ گزینی کے دعووں کو روکنا ہے جو اکثر امریکہ میں ورک پرمٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ترجمان ڈی ایچ ایس کے مطابق جعلی پناہ گزینی کے دعوے طویل عرصے سے ملازمت حاصل کرنے کا آسان ذریعہ بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے امیگریشن نظام غیر حقیقی درخواستوں سے بھر گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایجنسی پناہ گزینی کے عمل میں اصلاحات لا رہی ہے، موجودہ قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے اور پچھلی حکومت سے وراثت میں ملنے والے بیک لاگ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ درخواستوں کے پروسیس ہونے کے دوران غیر ملکیوں کو خودکار طور پر کام کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ نئے اقدامات کا مقصد پناہ گزینی اور ورک پرمٹ کے عمل میں شفافیت اور ایمانداری کو بحال کرنا ہے۔ دائر کی جانے والی ورک پرمٹ کی درخواستیں جو زیر التوا پناہ گزینی کے دعووں پر مبنی ہیں، تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن پر شدید دباؤ پڑا ہے۔

اس وقت 1.4 ملین سے زائد زیر التوا پناہ گزینی کے دعوے موجود ہیں جو نیو ہیمپشائر کی پوری آبادی کے برابر ہیں۔ بہت سے افراد اس نظام کا فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ملازمت حاصل کرنے کے مقصد سے پناہ گزینی کی درخواستیں دائر کر رہے ہیں۔اگر یہ اصول نافذ کیے گئے تو یہ غیر ضروری، جعلی یا غیر حقیقی پناہ گزینی کے دعووں کے رجحان کو کم کر دیں گے۔ یہ قواعد ایسے افراد کے لیے درخواست دائر کرنے اور اہل ہونے کی شرائط میں تبدیلی کریں گے جو زیر التوا پناہ گزینی کی بنیاد پر ورک پرمٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
