مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات ضرور ہوں گے، لیکن زمین کے زیادہ تر حصوں میں انسان زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے قابل رہیں گے۔انہوں نے یہ بات اپنی تنظیم ’بریک تھرو انرجی‘ کے حوالے سے گفتگو میں کہی، جو ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی مالی معاونت کرتی ہے۔ بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ بعض ماحولیاتی کارکن انہیں ”منافق“ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا کاربن فٹ پرنٹ زیادہ ہے، تاہم ان کے مطابق وہ اپنے تمام اخراج کو جائز کاربن کریڈٹس سے پورا کرتے ہیں۔انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق 3 اہم حقائق بیان کیے:
- ماحولیاتی تبدیلی انسانی تہذیب کا خاتمہ نہیں کرے گی۔
- درجہ حرارت ترقی کی پیمائش کا بہترین پیمانہ نہیں۔
- صحت اور خوشحالی ہی گرم ہوتے کرۂ ارض کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہیں۔
بل گیٹس نے کہا کہ دنیا پیرس معاہدے کے ہدف یعنی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے سے پیچھے جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود کاربن اخراج میں کمی کے لیے ہونے والی پیش

رفت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق غریب ممالک کے لیے اصل چیلنج غربت اور بیماری ہے، اس لیے توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ لوگ بہتر صحت اور خوشحالی حاصل کریں تاکہ وہ شدید موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ بل گیٹس نے زور دیا کہ مستقبل میں حکمتِ عملی کا مقصد ”گرین پریمیم“ کو ختم کرنا ہونا چاہیے یعنی صاف ذرائع اور آلودہ صنعتی ذرائع (جیسے سیمنٹ، اسٹیل اور ہوائی جہاز کے ایندھن) کے درمیان لاگت کا فرق کم کیا جائے۔انہوں نے اس بات کا موازنہ 30 سال پہلے اپنے مائیکروسافٹ میمو سے کیا، جس میں انہوں نے کمپنی کو کہا تھا کہ انٹرنیٹ کو اپنی ہر سرگرمی کا مرکز بنائے۔ اسی طرح اب انہوں نے کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک نئی تذویراتی سمت اختیار کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ’سی او پی 30‘ کے بعد کے دور میں۔
