امریکہ میں جاری طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران وفاقی فوڈ امداد کی معطلی کے بعد الاسکا کے گورنر مائیک ڈن لیوی نے پیر کے روز ایک ریاستی آفت (Disaster) کا اعلان کیا ہے تاکہ شہریوں کو عارضی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وفاقی اخراجات پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون سازوں کے درمیان سیاسی تعطل کے باعث سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (SNAP) کی فنڈنگ منجمد ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں امریکی، جن میں 66 ہزار سے زائد الاسکن باشندے شامل ہیں، اس ماہ خوراکی امداد سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر کے دوران اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے وفاقی ایمرجنسی فنڈز استعمال کرنے سے انکار کیا، اگرچہ بعد ازاں ان کی انتظامیہ نے دو عدالتی فیصلوں کے بعد جزوی طور پر فنڈز بحال کرنے کا عندیہ دیا۔ تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں کہ یہ رقوم کب مستفیدین تک پہنچیں گی۔ ابتدائی طور پر گورنر ڈن لیوی نے کہا تھا کہ ریاست اپنے وسائل سے وفاقی امداد کا متبادل فراہم نہیں کر سکتی۔ ان کی انتظامیہ کے مطابق نہ تو فوڈ بینکس کے لیے کوئی فنڈز مختص تھے اور نہ ہی ریاست الیکٹرانک بینیفٹ ٹرانسفر (EBT) کارڈز کے ذریعے امداد جاری کر سکتی تھی۔

تاہم پیر کے روز گورنر کے دفتر نے اعلان کیا کہ انہوں نے اس معاملے کا حل نکال لیا ہے۔ ریاست اب EBT کارڈز کے وفاقی کنٹریکٹر کے ساتھ تعاون کرے گی تاکہ اس ہفتے سے ریاستی فنڈز کی ہفتہ وار ادائیگیاں شروع کی جا سکیں۔ محکمہ صحت بھی فوڈ بینکس کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ضرورت مند الاسکن باشندوں کو شٹ ڈاؤن کے دوران مدد فراہم کی جا سکے۔گورنر ڈن لیوی نے بیثل (Bethel) کے دورے کے دوران کہا،
“ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب تک وفاقی حکومت فنڈنگ کے مسئلے کو حل نہیں کرتی، ہم اپنی پوری کوشش جاری رکھیں تاکہ حالات معمول پر آ سکیں۔”
گورنر کے اس فیصلے سے قبل قانون سازوں کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ فوری اقدام کریں تاکہ SNAP کے مستحقین بھوک کا سامنا نہ کریں۔ ہاؤس اسپیکر برائس ایجمن اور سینیٹ کے صدر گیری اسٹیونز نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے بحران کے وقت دو جماعتی تعاون پر زور دیا۔ اسٹیونز نے کہا،
“الاسکن باشندوں کو وفاقی تعطل کے باعث اپنے خاندانوں کے کھانے کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔”
یہ 30 روزہ ڈیزاسٹر ڈیکلریشن گورنر کو ریاستی ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ سے رقم استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم یہ فنڈ تقریباً ختم ہو چکا ہے کیونکہ حال ہی میں اسے الاسکا کے مغربی حصے میں طوفان سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ الاسکن شہریوں کے لیے ماہانہ خوراکی فوائد کی مجموعی لاگت 20 ملین ڈالر سے زائد ہے، یعنی تقریباً 5 ملین ڈالر فی ہفتہ۔ سال کے آغاز میں، ڈن لیوی نے 10 ملین ڈالر کی رقم ویٹو کر دی تھی جو قانون سازوں نے ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کے لیے مختص کی تھی۔ اب وہ موجودہ خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ رقم ولج سیف واٹر اینڈ ویسٹ واٹر انفراسٹرکچر پروگرام سے منتقل کر رہے ہیں۔ گورنر کا کہنا ہے کہ وہ جنوری کے قانون ساز اجلاس میں اضافی فنڈنگ کی درخواست کریں گے تاکہ اس پروگرام کے فنڈز بحال کیے جا سکیں۔ یہ پروگرام وفاقی اور ریاستی فنڈز کے اشتراک سے چلتا ہے۔ اگر قانون سازوں نے ریاستی شراکت بحال نہ کی تو دیہی علاقوں کے منصوبوں کے لیے درکار لاکھوں ڈالر کے وفاقی فنڈز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ قانون ساز ایک خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر رہے تھے تاکہ نئی فنڈنگ کی منظوری دی جا سکے، مگر ڈن لیوی کے ڈیزاسٹر ڈیکلریشن کے بعد ایجمن اور اسٹیونز دونوں نے کہا کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ وفاقی فوڈ امداد کے متبادل اخراجات کا انحصار شٹ ڈاؤن کے دورانیے پر ہوگا۔ گورنر کے مطابق الاسکا کے لیے ہفتہ وار لاگت 2.5 ملین سے 5 ملین ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی جزوی فنڈنگ دستیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
