شہر ہیوسٹن کی سالڈ ویسٹ ڈپارٹمنٹ نے بھاری کچرا اٹھانے کے نظام کو مقررہ شیڈول سے بدل کر آن ڈیمانڈ سروس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔ یہ نیا نظام اسی ہفتے شروع ہونا تھا تاہم حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نفاذ غیر معینہ مدت تک کے لیے روک دیا گیا ہے۔ سالڈ ویسٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر لاریئس ہاسن نے ایک بیان میں بتایا کہ آن ڈیمانڈ سروس کا آغاز پیر سے ہونا تھا لیکن اسے تاحکمِ ثانی روک دیا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے اس تاخیر کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
شہری انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ موجودہ ماہانہ شیڈول پورے شہر میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ لاریئس ہاسن کے مطابق صفائی کے عملے کو اکثر ایسی گلیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جہاں رہائشیوں نے بھاری کچرا باہر نہیں رکھا ہوتا، جس کے باعث وسائل ضائع ہوتے ہیں اور بعض علاقوں میں تاخیر اور کچرے کے ڈھیر جمع ہونے جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے بھی زیادہ قابلِ اعتماد اور منظم سروس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ مجوزہ آن ڈیمانڈ نظام کے تحت شہریوں کو ماہانہ بنیاد پر کچرا باہر رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق سروس طلب کرنے کی سہولت دی جاتی۔ ہر گھر کو سال میں چار مرتبہ بھاری کچرا اٹھانے کی درخواست دینے کی اجازت ہوتی۔

میئر جان وٹمائر کا کہنا ہے کہ شہر اس نئے نظام کے نفاذ پر بدستور کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ محکمہ اس وقت کالنگ سسٹم کی جانچ کر رہا ہے اور میدان میں وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ سروس کو پوری طرح مؤثر بنانے کے بعد ہی شہر بھر میں نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلدی کے بجائے درست طریقے سے اس نظام کو متعارف کرانا ترجیح ہے۔ یہ تاخیر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شہر کے 311 سروس سینٹر کو بھاری کچرا نہ اٹھائے جانے کی شکایات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ایسے 2617 سروس ریکویسٹ درج ہوئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 1210 تھی۔ تاہم میئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل طور پر درست تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ اکثر ایک ہی مسئلے پر متعدد فون کالز بھی ریکارڈ ہو جاتی ہیں۔
شہری انتظامیہ کے مطابق محکمہ صفائی کو بہتر بنانے کے لیے حالیہ عرصے میں اضافی وسائل بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ میئر کے دفتر کا کہنا ہے کہ گاڑیوں، آلات اور افرادی قوت کی فراہمی کے لیے اہم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سال شہر کی منظور شدہ بجٹ میں محکمہ سالڈ ویسٹ کی سالانہ رقم میں تقریباً 5.9 ملین ڈالر کی کمی کی گئی تھی۔ یہ کمی اس وقت کی گئی جب میئر کے ابتدائی ریٹائرمنٹ پروگرام کے تحت ایک درجن سے زائد ملازمین سروس سے الگ ہو گئے۔ اندرونی ریکارڈ کے مطابق محکمہ کی افرادی قوت میں بھی کمی آئی۔ جنوری میں ملازمین کی تعداد 435 تھی جو اکتوبر تک کم ہو کر 395 رہ گئی۔ ابتدائی ریٹائرمنٹ لینے والے ملازمین میں کئی ٹرک ڈرائیور اور آپریٹر شامل تھے جو صفائی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بعد ازاں شہر کی کونسل نے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 26 ملین ڈالر کی منظوری دی جس سے 60 سے زائد نئے ٹرک خریدے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ٹرک ری سائیکلنگ سروس کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور اعداد و شمار کے مطابق اس شعبے میں شکایات گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوئی ہیں۔ سٹی کونسل کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ محکمہ کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے تاہم مسائل اب بھی موجود ہیں۔ کونسل رکن جولیئن رامیریز کے مطابق نئے ٹرکوں کی خریداری مثبت قدم ہے مگر محکمہ کو محدود وسائل اور تنظیمی مسائل کے باعث سروس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں اب بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ دوسری جانب کونسل رکن ایمی پیک کا کہنا ہے کہ بھاری کچرا اٹھانے میں تاخیر پورے شہر کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام مؤثر ثابت نہیں ہو رہا اس لیے نئے طریقوں، خصوصاً آن ڈیمانڈ سروس جیسے منصوبوں کو آزمانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
