پلس نے پاکستان ایسوسی آف گریٹر ہیوسٹن کے ساتھ فخریہ انداز میں فلیگ شپ کاوش پاکستان کوچنگ سینٹر کے قیام کا اعلان کردیا۔ جو اسٹریٹجک اشتراک کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ یہ اعلان نوجوانوں کو بااختیار بنانے ، منظم تعلیم کی فراہمی اور پائیدار طویل المدتی عزم میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کوچنگ سینٹر کو ایک جامع بااختیار پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں کے لیے تعلیمی برتری، ثقافتی وابستگی اور مستقبل سے ہم آہنگ مہارتوں کو یکجا کرے گا۔

اس موقع پر پلس کے صدر فیصل عزیز خان نے اس پروگرام کوترقی کا تجربے کا عملی اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماڈل ہے۔ ہمارے نوجوان جدید تعلیم اور جدید مہارتوں کے ذریعے عالمی کامیابی کی تیاری کریں گے، جبکہ اپنی جڑوں سے جڑے رہیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں سینکڑوں طلبہ کو سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ مستقبل میں اس ماڈل کو ہیوسٹن کے مختلف مراکز تک وسعت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پلس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناجیہ اشعر نے ادارے کے عملی اور نفاذ پر مبنی انداز کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے اعلان کے بعد اصل کام شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کوچنگ سینٹر باقاعدہ نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید تدریسی نظام اور طلبہ کی مسلسل کارکردگی کی نگرانی کے ساتھ عملی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ہم صرف مضامین نہیں پڑھا رہے بلکہ اعتماد، قیادت اور مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق سینٹر قابلِ پیمائش نتائج، احتسابی نظام اور طویل المدتی پائیداری کی منصوبہ بندی کے تحت کام کے وسیع مشن سے ہم آہنگ ہے جو پلس کے مشن کے تحت نوجوانوں کو بااختیار، مہارتوں کو نکھارنا اور شہری شعور کو مضبوط بنائے گا۔
نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا منظم ماڈل
پاکستان کوچنگ سینٹر میں درج ذیل شعبہ جات شامل ہوں گے:
اردو زبان، ثقافتی آگاہی اور کردار سازی
سائنسی و فنی تعلیم بشمول ریاضی، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت
قیادت کی تربیت اور شہری شعور
منظم نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ اور مسلسل کارکردگی کا جائزہ
یہ اقدام سوچ سمجھ کر اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ نوجوان اپنی شناخت سے جڑے رہتے ہوئے امریکہ میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے درکار مہارتیں حاصل کر سکیں۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن ، امریکی شہر ہیوسٹن کی پاکستانی کمیونٹی میں ایک مضبوط اور معتبر ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر سراج نارسی نے اس اقدام کو دیرینہ کمیونٹی ضرورت کی تکمیل قرار دیا۔ ان کے مطابق ہم نے اپنے بچوں کو کامیاب ہوتے دیکھا، مگر انہیں ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنی شناخت، زبان اور اقدار سے جڑے رہ سکیں۔ پاکستان کوچنگ سینٹر اسی وژن کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے جنرل سیکرٹری عامر عسکری زیدی نے بھی شراکت کے مشترکہ عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پی اے جی ایچ اور پلس اگلی نسل کے مستقبل کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ یہ خواب تھا جو اب حقیقت کا روپ بننے کو تیار ہے۔
اگلی نسل میں کمیونٹی کی سرمایہ کاری
سحری پروگرام میں شریک کمیونٹی اراکین نے اس اعلان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہیوسٹن کی پاکستانی نژاد امریکی آبادی میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک منظم اور پائیدار حکمت عملی کی علامت ہے۔منتظمین کے مطابق پاکستان کوچنگ سینٹر ایک قابلِ توسیع ماڈل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو شناخت کے تحفظ، مسابقتی تعلیمی تیاری اور قیادت کی نشوونما کو یکجا کرتا ہے۔ پلس اور پی اے جی ایچ کی قیادت نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب خود احتسابی اور تجدید کا پیغام عام ہوتا ہے ۔ امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ایک نسلی تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگا۔ ایسا قدم جو ہیوسٹن کے نوجوانوں کو اعتماد، قابلیت اور تعلق کے مضبوط احساس سے آراستہ کرے گا۔
