نیشنل ویدر سروس کے اعداد و شمار کے مطابق 1892 کے بعد سے ہیوسٹن میں ریکارڈ کی جانے والی پانچ گرم ترین دسمبر اور جنوری میں سے چار گزشتہ بیس برسوں میں سامنے آئے ہیں۔ فروری کے مہینے میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ریکارڈ کی گئی پانچوں گرم ترین اوسط درجۂ حرارت 2012 کے بعد کے ہیں۔ ٹیکساس کے ریاستی ماہرِ موسمیات جان نیلسن گیمن کے مطابق حالیہ شدید سردی کے باوجود اس سال کی سردیاں مجموعی طور پر معمول سے زیادہ گرم رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں مختلف موسموں کے درجۂ حرارت کو دیکھا جائے تو تقریباً سب میں یکساں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق ہر موسم کا درجۂ حرارت تقریباً چند ڈگری فارن ہائیٹ بڑھ چکا ہے اور کسی ایک موسم میں نمایاں فرق نہیں، بلکہ تمام موسم ایک ساتھ گرم ہو رہے ہیں۔ درجۂ حرارت میں اضافے کے اثرات روزمرہ زندگی میں نظر آ رہے ہیں۔بعض علاقوں میں بہار کے جنگلی پھول پہلے ہی کھلنا شروع ہو چکے ہیں، جو پودوں کے قدرتی نظام الاوقات کو متاثر کر رہا ہے۔ ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے باغبانی علوم کے پروفیسر اور دی گارڈنز کے ڈائریکٹر مائیک آرنلڈ کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گرم وقفوں کے بعد شدید سردی پودوں کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق درختوں اور بڑے جھاڑی دار پودوں کو بار بار نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر تنا اور وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو عام طور پر شدید سردی کے لیے حساس نہیں ہوتے۔ اگر پودے بہت جلد کھل جائیں اور پھر شدید سردی سے مر جائیں تو اس سے شہد کی مکھیاں اور دیگر کیڑے متاثر ہوتے ہیں۔ ہے۔ ۔غیر معمولی اوقات میں پودوں کے کھلنے سے بعض افراد کے لیے الرجی کا موسم بھی پہلے شروع ہو سکتا ہے ۔

غیر متوقع گرم موسم ان پودوں کو وقت سے پہلے کھلنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس سے الرجی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ماہرین باغبانی کا کہنا ہے کہ جو افراد اپنے پودوں کو وقت سے پہلے کھلتا ہوا دیکھیں، انہیں ممکنہ شدید سردی سے پہلے پودوں کو ڈھانپ دینا چاہیے، اگرچہ بڑے پودوں کو پھر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وہ یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ باغبان فوری طور پر کٹائی یا صفائی نہ کریں بلکہ موسم بہار کے معمول کے وقت تک انتظار کریں، کیونکہ کچھ حد تک خراب یا بدصورت نظر آنے والے پودے بھی آئندہ موسم میں بہتر بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔

