الٹاڈینا، کیلیفورنیا، 16 اکتوبر 2026 — لاس اینجلس میں جنوری 2025 کے دوران لگنے والی تباہ کن آگ سے متاثرہ ہزاروں خاندان اب بھی اپنے گھر اور زندگی دوبارہ سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان خاندانوں کو ان ماہرین کی مدد ختم ہونے کا خدشہ ہے جو ان کے لیے انشورنس کلیم، مالی امداد اور گھروں کی تعمیرِ نو کے معاملات سمجھنے اور حل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، تقریباً 1,400 خاندان اکتوبر کے اختتام تک ڈیزاسٹر کیس مینیجرز کی مدد سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ 700 سے زیادہ خاندان اب بھی اس سروس کے انتظار میں ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت اور امریکی وفاقی ادارے فیما (FEMA) کے درمیان فنڈز کے معاملے پر جاری اختلاف ہے۔
آگ بجھنے کے بعد بھی مشکلات ختم نہیں ہوئیں
جنوری 2025 میں ایٹن اور پیلیسیڈز کی آگ نے لاس اینجلس کے علاقے میں ہزاروں عمارتوں کو تباہ کر دیا تھا۔ فوری خطرہ گزر جانے کے باوجود بہت سے خاندان اب بھی گھروں کی تعمیرِ نو، انشورنس کی رقم حاصل کرنے اور مالی امداد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ڈیزاسٹر کیس مینیجرز متاثرہ خاندانوں کو امدادی درخواستیں مکمل کرنے، کرائے کے لیے مدد حاصل کرنے، انشورنس کمپنیوں کے فیصلوں پر اعتراض اٹھانے اور تعمیرِ نو کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی وسائل تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ایسے فراڈ سے بچنے کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں جو اکثر قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اے پی کے مطابق، الٹاڈینا کی 78 سالہ رہائشی میری لینڈو کا گھر ایٹن فائر میں تباہ ہو گیا تھا۔ وہ اپنے گھر کی تعمیرِ نو کی کوششوں کے دوران انشورنس کے کاغذات مکمل کرنے اور مالی مدد حاصل کرنے کے لیے اپنی کیس مینیجر پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
اب اس پروگرام کے خاتمے کے خدشے نے ان خاندانوں کی پریشانی بڑھا دی ہے جو اب بھی انشورنس کی ادائیگیوں، رہائش کے انتظامات اور تعمیرِ نو کے لیے درکار رقم کے منتظر ہیں۔
فنڈز کے معاملے پر اختلاف سے امدادی پروگرام متاثر
آگ سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کیلیفورنیا نے ابتدا میں 28 ملین ڈالر طلب کیے تھے، تاہم فیما نے 13.2 ملین ڈالر کی منظوری دی۔ بعد میں رقم کی واپسی اور اضافی فنڈز کے معاملے پر اختلافات کے باعث پروگرام کو جاری رکھنے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
30 ستمبر 2026 کو کیلیفورنیا کے قانون سازوں کے دباؤ کے بعد فیما نے پہلے سے منظور شدہ فنڈز میں سے مزید 6.6 ملین ڈالر جاری کیے۔ تاہم، اے پی کی 16 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، پروگرام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریاست کی جانب سے مانگی گئی اضافی 6.5 ملین ڈالر کی رقم کا معاملہ اب بھی حل طلب تھا۔
پروگرام سے منسلک غیر منافع بخش ادارے متاثرہ خاندانوں کے کیس دوسرے اداروں کو منتقل کرنے اور امداد کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ان اداروں کا کہنا ہے کہ دستیاب وسائل تمام خاندانوں کی مدد جاری رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ قدرتی آفت کے بعد اصل مشکلات فوری ہنگامی صورت حال ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ گھر دوبارہ بنانا، انشورنس کے معاملات حل کرنا اور مالی استحکام حاصل کرنا بعض خاندانوں کے لیے برسوں کا عمل بن جاتا ہے۔
پاکستانی امریکی اور دیگر تارکینِ وطن خاندان کیا کریں؟
قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے پاکستانی امریکی اور دیگر تارکینِ وطن خاندانوں کو بعض اوقات زبان، امدادی درخواستوں کے طریقۂ کار اور انشورنس کے پیچیدہ معاملات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم، تارکینِ وطن ہونا بذاتِ خود ہر امدادی پروگرام سے نااہل ہونے کا مطلب نہیں؛ اہلیت کا فیصلہ متعلقہ پروگرام کے قواعد کے مطابق ہوتا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کو چاہیے کہ:
- اہم دستاویزات محفوظ رکھیں: انشورنس پالیسی، نقصان کی تصاویر، مرمت اور عارضی رہائش کی رسیدیں اور امدادی درخواستوں کی نقول سنبھال کر رکھیں۔
- درخواستوں کا ریکارڈ بنائیں: درخواست جمع کرانے کی تاریخ، ریفرنس نمبر، آخری تاریخ اور متعلقہ ادارے سے ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
- قابلِ اعتماد اداروں سے مدد لیں: سرکاری امدادی اداروں، مستند قانونی معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور معروف غیر منافع بخش تنظیموں سے رابطہ کریں۔
- فراڈ سے ہوشیار رہیں: ایسے افراد سے محتاط رہیں جو امداد دلانے کی ضمانت دے کر پہلے رقم مانگیں یا غیر مصدقہ پیغامات کے ذریعے ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
- سرکاری معلومات چیک کریں: امدادی پروگراموں، اہلیت اور درخواستوں کی آخری تاریخ کے لیے فیما کی سرکاری ویب سائٹ FEMA.gov اور متعلقہ ریاستی و مقامی اداروں سے رجوع کریں۔
پاکستانی کمیونٹی کی تنظیمیں، مقامی گروپس اور مساجد بھی درست معلومات عام کرنے، زبان کی مدد فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو مستند اداروں تک پہنچانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، یہ کوششیں سرکاری امداد اور ماہر کیس مینیجرز کا متبادل نہیں بلکہ ان کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
قدرتی آفت کے بعد بحالی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری
لاس اینجلس کی صورت حال واضح کرتی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری صرف انخلا، ہنگامی سامان اور فوری امداد تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ گھروں کی تعمیرِ نو، انشورنس کے معاملات اور خاندانوں کو دوبارہ مالی طور پر مستحکم ہونے میں کئی ماہ یا سال لگ سکتے ہیں۔
امریکہ بھر میں رہنے والے خاندانوں، خصوصاً پاکستانی امریکی کمیونٹی کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اس کے بعد کی بحالی کی تیاری بھی ضروری ہے۔ درست معلومات، قابلِ اعتماد کمیونٹی روابط اور مسلسل مدد متاثرہ خاندانوں کے لیے مشکلات کم کر سکتی ہے۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، 16 اکتوبر 2026۔
