Pulse News Logo
  • کمیونٹی باخبر
  • تیار
  • بحال
  • خودمختار
  • ویڈیو ڈیسک
  • نوجوان
  • قانونی رہنمائی
No Result
View All Result
  • ہوم
  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی
  • اردو
    • اردو
    • English
PULSE News
No Result
View All Result
Home بحال

ریکارڈ بارش کے بعد سان ڈیاگو میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ خالی

webdesk by webdesk
جنوری 5, 2026
in بحال
Reading Time: 1 min read
ریکارڈ بارش کے بعد سان ڈیاگو میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ خالی
0
SHARES
0
VIEWS
ShareTweetSend

نئے سال کے دن ہونے والی شدید بارشوں کے بعد سان ڈیاگو کے وسطی علاقے میں قائم بے گھر افراد کی ایک بڑی پناہ گاہ سے سینکڑوں افراد کو انخلا کرنا پڑا، جب طوفانی بارش نے علاقے میں شدید سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔ مقامی حکام کے مطابق برج شیلٹر میں مقیم تقریباً 325 مرد و خواتین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جب ایک ہی دن میں لگ بھگ دو انچ بارش ریکارڈ کی گئی، جو عام طور پر ایک مہینے کی بارش کے برابر ہوتی ہے۔ اس غیر معمولی بارش نے مقامی ریکارڈ توڑ دیے اور شہر بھر میں پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے کئی آپریشن کیے گئے۔

برج شیلٹر، جو ایک بڑے خیمے پر مشتمل عارضی پناہ گاہ ہے، کو یکم جنوری کو خالی کرایا گیا اور وہاں رہنے والے افراد کو قریبی پارک میں قائم ایک جم منتقل کر دیا گیا۔ یہ گزشتہ سات برسوں میں تیسرا موقع ہے کہ اس پناہ گاہ کو سیلاب کے باعث خالی کرنا پڑا۔ جنوبی کیلیفورنیا حالیہ ہفتوں میں شدید طوفانوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کے باعث ریاست کے گورنر نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ ہفتے کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

shelter home

یہ طوفانی بارشیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اسی خطے میں تباہ کن جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ مسلسل بارش کے پیشِ نظر آگ سے متاثرہ علاقوں میں ملبہ بہنے کے خطرے کے باعث انخلا کی وارننگ جاری کی گئی، جبکہ موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا کہ آگ سے جھلسے علاقے اچانک سیلاب کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس نوعیت کے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ان آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بے گھر افراد شامل ہیں۔ برج شیلٹر چلانے والے فلاحی ادارے کے سربراہ کے مطابق یہ نئے سال کی شروعات کا کوئی اچھا منظر نہیں تھا۔

یہ پناہ گاہ اس سے قبل بھی 2018 اور 2024 میں سیلاب کے باعث خالی کرائی جا چکی ہے۔ گزشتہ سال یہاں پانی کمر تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث رہائشیوں کو پانی میں سے گزر کر نکلنا پڑا۔ اس سے تقریباً پانچ سال قبل بھی اسی مقام پر اچانک سیلاب آیا تھا۔ ماہرینِ سماجی امور خبردار کرتے ہیں کہ قدرتی آفات صرف عارضی بے دخلی تک محدود نہیں رہتیں بلکہ طویل المدتی رہائشی بحران کو بھی شدید بنا دیتی ہیں۔ ایسے واقعات گھروں کی دستیابی کم کر دیتے ہیں اور پہلے ہی مشکلات کا شکار افراد کے لیے سستی رہائش تلاش کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2024 میں امریکہ بھر میں قدرتی آفات کے باعث تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ بعض علاقوں میں اس کے اثرات نہایت سنگین رہے، جیسا کہ ہوائی کے جزیرے ماؤئی میں جنگلاتی آگ کے بعد بے گھری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرینِ قانون اور ماحولیات کے مطابق آفاتِ قدرت رہائشی اور غیر رہائشی دونوں طبقات کو متاثر کرتی ہیں۔ قلیل مدتی بنیادوں پر عارضی پناہ گاہیں اور کیمپ فوری ضرورت پوری کر سکتے ہیں، مگر جب مکانات تباہ ہو جائیں تو مستقل رہائش کا حصول انتہائی دشوار ہو جاتا ہے، خصوصاً اس وقت جب رہائشی منڈی پہلے ہی قلت کا شکار ہو۔ ان تمام مشکلات کے باوجود بعض متاثرین امید کا دامن نہیں چھوڑ رہے۔ 68 سالہ مائیکل کوٹس، جو اپنی اہلیہ کے ساتھ برج شیلٹر میں مقیم تھے، کا کہنا ہے کہ ان کا ایمان انہیں حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق وہ پُرامید ہیں کہ ایک دن وہ دوبارہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک محفوظ گھر میں زندگی شروع کریں گے۔

san
Previous Post

ٹیکساس میں سب سے پہلے کہاں برف پڑتی ہے؟

Next Post

شیوران ہیوسٹن میراتھن اگلے ہفتے، دوڑ کا آغاز سرد موسم میں ہونے کا امکان

  • کمیونٹی باخبر
  • تیار
  • بحال
  • خودمختار
  • ویڈیو ڈیسک
  • نوجوان
  • قانونی رہنمائی

Copyright © 2024 – PULSE News

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • پرائیویسی پالیسی
  • ہمارے بارے میں
  • ہوم
  • ویڈیو ڈیسک

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.