اس ہفتے کے آخر میں نیو یارک سٹی میں خطرناک حد تک کم درجۂ حرارت اور جما دینے والی ہواؤں کی پیش گوئی کے باوجود میئر زوہران ممدانی نے بے گھر افراد کی بستیوں کو خالی کرانے یا لوگوں کو زبردستی سڑکوں سے ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے پر سیاسی رہنماؤں اور سماجی پالیسی کے ماہرین کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ طرزِعمل انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

سردی کی ہنگامی صورتحال میں بے گھر افراد سے اپیل
جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر مامدانی نے براہِ راست بے گھر افراد کو مخاطب کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر پناہ گاہوں کا رخ کریں۔ انہوں نے ان افراد سے خاص طور پر کہا جو خود کو کھلی فضا میں زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کہ وہ شدید سردی میں باہر رہنے کے بجائے دستیاب شیلٹرز سے فائدہ اٹھائیں۔
زبردستی کارروائی آخری حل قرار
میئر نے واضح کیا کہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ہٹانا صرف آخری آپشن کے طور پر ہی زیرِ غور لایا جائے گا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ جہاں افراد کے پاس سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب لباس موجود نہیں تھا، وہاں سٹی ٹیموں نے مداخلت کی، جس کے نتیجے میں محدود تعداد میں لوگوں کو سڑکوں سے ہٹایا گیا۔
اموات میں اضافہ تشویش کا باعث
سٹی ہال حکام کے مطابق 24 جنوری کے بعد سے نیو یارک میں کم از کم 17 افراد سردی سے متعلق وجوہات کی بنا پر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں سے 13 اموات ہائپوتھرمیا کے باعث ہوئیں جبکہ تین افراد منشیات کے زیادہ استعمال سے جاں بحق ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ہلاکتوں کی تعداد 2010 سے 2019 کے درمیان تقریباً تمام برسوں کی سالانہ اموات سے تجاوز کر چکی ہے، سوائے 2018 کے۔
موسمی حالات جان لیوا صورت اختیار کر گئے
محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کے روز درجۂ حرارت تقریباً چار ڈگری تک گرنے کا امکان ہے۔ 40 سے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعث محسوس ہونے والا درجۂ حرارت منفی 20 ڈگری کے قریب ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں تیس منٹ سے زیادہ وقت تک کھلے ماحول میں رہنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی اور عوامی تنقید میں شدت
سٹی کونسل کے رکن اوسوالڈ فیلز سمیت دیگر ناقدین نے شہر کی جانب سے سخت اقدامات نہ کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ جب سردی کے باعث جانیں ضائع ہو رہی ہوں تو حکام کو لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے، چاہے اس کے لیے لازمی اقدامات ہی کیوں نہ کرنا پڑیں۔
ایمرجنسی کالز پر تشویش
شہریوں نے ایمرجنسی رسپانس سسٹم پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی بے گھر فرد کی تکلیف کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں تو آپریٹرز فوری مدد بھیجنے کے بجائے غیر ضروری سوالات کرتے ہیں، جیسے کہ لباس کی تفصیلات، جس سے امداد میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
شہر کے ہنگامی اقدامات
میئر مامدانی کے مطابق 19 جنوری سے شہر میں “کوڈ بلیو” ہنگامی پروٹوکول نافذ ہے۔ اس دوران 1,100 سے زائد بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ صرف 20 افراد کو ان کی مرضی کے خلاف سڑکوں سے ہٹایا گیا۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں 20 نئی موبائل وارمنگ سائٹس بھی قائم کی گئی ہیں۔
کوڈ بلیو پر سٹی کونسل کا جائزہ
سٹی کونسل کی مختلف کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس منگل کو طلب کیا گیا ہے، جس میں کوڈ بلیو کے تحت کیے گئے اقدامات اور سردی سے متعلق اموات میں اضافے کا جائزہ لیا جائے گا۔
