امریکا میں جاری شدید سرد موسم اور ونٹر اسٹورمز کے تناظر میں حکام نے شہریوں کو پانی کی پائپ لائنز کے منجمد ہونے سے بچاؤ کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق ٹیکساس، اوکلاہوما، لوزیانا، مسیسیپی، ٹینیسی اور مڈویسٹ کی کئی ریاستوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گرنے کے باعث گھریلو پلمبنگ سسٹمز شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
امریکی نیشنل ویدر سروس کے مطابق جب درجہ حرارت 32 فارن ہائیٹ (صفر ڈگری سینٹی گریڈ) یا اس سے کم ہو جائے تو پانی کے پائپس کے جم جانے اور پھٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر وہ پائپس جو بیرونی دیواروں، گیراج، اٹک، بیسمنٹ یا غیر گرم حصوں میں نصب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسم میں رات کے وقت نلکوں کو ہلکا سا ٹپکنے دینا انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ پانی کی مسلسل حرکت جمنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔ اسی طرح کچن اور باتھ روم کی الماریوں کے دروازے کھلے رکھنے سے گھریلو ہیٹنگ سسٹم کی گرم ہوا پائپس تک پہنچتی ہے اور انہیں منجمد ہونے سے بچاتی ہے۔

امریکی حکام شہریوں کو یہ بھی ہدایت کر رہے ہیں کہ گھروں میں تھرموسٹیٹ کا درجہ حرارت دن اور رات کم از کم ایک جیسا رکھا جائے۔ توانائی کی بچت کے لیے رات کے وقت درجہ حرارت کم کرنا قلیل مدتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر اس سے پائپس کو طویل مدتی اور مہنگا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ مزید احتیاطی تدابیر میں پائپس پر انسولیشن، فوم کور یا ہیٹ ٹیپ کا استعمال، بیرونی نلکوں کو ڈھانپنا، اور شدید سردی کے دوران طویل سفر کی صورت میں پانی کی مرکزی سپلائی بند کرنا شامل ہے۔ حکام خبردار کر رہے ہیں کہ منجمد پائپ کے اچانک پگھلنے سے گھروں میں پانی بھر سکتا ہے، جس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
امریکی ایمرجنسی مینجمنٹ اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال پر نظر رکھیں، گھروں کا پیشگی معائنہ کریں اور سرد موسم کے دوران ان احتیاطی ہدایات پر عمل کر کے خود کو مالی نقصان اور ہنگامی صورتحال سے محفوظ رکھیں۔
