ہیوسٹن سمیت ٹیکساس میں والدین اور خاندانوں کے لیے فینٹانائل کا خطرہ ایک اہم حفاظتی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسی جعلی گولیاں جو دیکھنے میں عام prescription دوا جیسی لگتی ہیں، ان میں فینٹانائل شامل ہو سکتا ہے اور لینے والے شخص کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
اسی خطرے کو اجاگر کرنے کے لیے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کا پیغام ہے: One Pill Can Kill — ایک گولی جان لے سکتی ہے۔ DEA کے مطابق غیر قانونی طور پر تیار کی جانے والی جعلی گولیاں بعض اوقات اصلی prescription medicines جیسی بنائی جاتی ہیں، اس لیے صرف دیکھ کر یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ گولی محفوظ ہے یا نہیں۔
اس خطرے کی ایک دردناک مثال Noah کی کہانی ہے۔
Noah ایک عام نوجوان تھا جسے فٹبال پسند تھا، لیکن فینٹانائل نے اس کی زندگی چھین لی۔ اس کی والدہ Janel Rodriguez اب اپنی کہانی اس لیے بیان کر رہی ہیں تاکہ دوسرے خاندان اس خطرے کو سمجھ سکیں اور ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے پہلے سے تیار رہیں۔
والدین کو کیا معلوم ہونا چاہیے؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر کوئی prescription-style گولی استعمال نہ کی جائے۔
DEA کے مطابق محفوظ دوا وہی ہے جو کسی قابلِ اعتماد طبی ماہر نے تجویز کی ہو اور licensed pharmacy سے حاصل کی گئی ہو۔ غیر مصدقہ ذریعے سے ملنے والی گولی کو صرف اس کی شکل یا رنگ دیکھ کر اصلی نہیں سمجھنا چاہیے۔
والدین اپنے بچوں اور نوجوانوں سے اس بارے میں کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر انہیں سمجھانا ضروری ہے کہ دوست، سوشل میڈیا یا کسی غیر مصدقہ ذریعے سے ملنے والی گولی بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔
اگر کسی کو فینٹانائل یا opioid کے استعمال کا شبہ ہو تو کیا کریں؟
اگر کوئی شخص بے ہوش ہو جائے، جواب نہ دے، یا اس کی سانس بہت آہستہ ہو جائے یا رکنے لگے تو اسے فوری طور پر ایمرجنسی سمجھیں۔
فوراً 911 پر کال کریں۔
اگر Naloxone، جسے Narcan بھی کہا جاتا ہے، دستیاب ہو تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ Naloxone opioid overdose کے اثرات کو تیزی سے ختم کرنے اور سانس بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ٹیکساس میں مفت یا کم قیمت Naloxone تلاش کرنے کے لیے ریاستی Naloxone Locator بھی دستیاب ہے۔
ٹیکساس کے حکام یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ فینٹانائل یا کسی opioid کے ممکنہ overdose کی صورت میں مدد لینے میں دیر نہ کی جائے، کیونکہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔
ہیوسٹن کی پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی اہم پیغام
ہیوسٹن میں رہنے والے پاکستانی خاندانوں کے لیے بھی یہ ایک ایسی بات ہے جس پر گھر میں بچوں اور نوجوانوں سے بات ہونی چاہیے۔
یہ صرف منشیات استعمال کرنے والے افراد کا مسئلہ نہیں ہے۔ اصل خطرہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص ایسی گولی لے سکتا ہے جسے وہ عام دوا سمجھ رہا ہو، لیکن اس میں خطرناک مقدار میں فینٹانائل موجود ہو۔
اس لیے احتیاط کا آسان اصول ہے:
جو گولی ڈاکٹر نے آپ کے لیے تجویز نہیں کی، اسے نہ لیں۔
اور اگر کسی کو overdose کا شبہ ہو تو انتظار نہ کریں — 911 پر کال کریں اور اگر Naloxone دستیاب ہے تو اسے استعمال کریں۔
Pulse News Community Safety Tip:
اپنے گھر میں Naloxone کے بارے میں معلومات رکھیں، بچوں سے فینٹانائل کے خطرے پر بات کریں اور یاد رکھیں: ایک گولی جان لے سکتی ہے۔
