ماحولیاتی کارکنوں نے ماحولیاتی تحفظ کےامریکی وفاقی ادارے کی جانب سے 2009 کے اس اہم فیصلے کو واپس لینے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں گرین ہاؤس گیسوں کو صحتِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کی بنیاد پر وفاقی حکومت کو کلین ایئر ایکٹ کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہوا تھا۔
ایئر الائنس ہیوسٹن کی ریسرچ اینڈ پالیسی ڈائریکٹر ڈاکٹر انیانگ اوواک کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی موسمیاتی تحفظات کی بنیاد تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد واضح کرتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج انسانی صحت پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے کو ختم کیا گیا تو ہیوسٹن جیسے بڑے اور ٹریفک سے بھرپور شہروں میں اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، جہاں گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیسیں پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔اوواک کے مطابق یہ اقدام صحتِ عامہ اور امریکی محنت کشوں دونوں کے مفاد کے خلاف ہے۔
ایئر الائنس ہیوسٹن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جین ہدایہ نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیوسٹن دنیا کا پیٹروکیمیکل مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں کئی دہائیوں سے فری ویز کی توسیع جاری ہے۔ ان کے مطابق مقامی آبادی پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ، ذراتی آلودگی اور اوزون پیدا کرنے والے عناصر کی بلند سطح کا سامنا کر رہی ہے، جو صحت کے لیے خطرناک ہیں۔ اسی لیے گاڑیوں کے اخراج سے متعلق معیارات اور دیگر قواعد و ضوابط ناگزیر ہیں، جو اسی ماحولیاتی فیصلے کے تحت نافذ کیے گئے تھے۔
ہیوسٹن میٹرز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رائس یونیورسٹی کے ماحولیاتی قانون کے پروفیسر جم بلیک برن نے بھی اس فیصلے کی منسوخی سے اختلاف کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بڑی کارپوریشنز ممکنہ طور پر اپنے اخراج میں کمی کی کوشش جاری رکھیں گی کیونکہ طویل المدتی معاشی فائدہ اسی میں ہے۔ ان کے بقول مستقبل کا کاروباری ماڈل وہی ہوگا جو موسمیاتی ذمہ داری کو ترجیح دے گا اور کم کاربن اخراج کو اپنائے گا، کیونکہ آنے والے وقت میں یہی کامیابی کی کنجی بننے والا ہے۔
