امریکا کے مختلف علاقے ان دنوں سردی کی شدید لپیٹ میں ہیں۔ ایسے میں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ شدید سردی نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔جیسے ہی درجہ حرارت میں تیزی سے کمی آتی ہے، سردی سے جڑی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ائپوتھرمیا، فراسٹ بائٹ اور یہاں تک کہ دل کا دورہ بھی شدید سردی کے ممکنہ خطرات میں شامل ہیں۔ہیکن سیک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایمرجنسی روم فزیشن ڈاکٹر الینا میٹینا کے مطابق بچے اور بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں زیادہ دیر تک باہر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر میٹینا کا کہنا ہے کہ فراسٹ بائٹ وہ مسئلہ ہے جس کا انہیں ایمرجنسی روم میں سب سے زیادہ سامنا ہوتا ہے۔ یہ عموماً انگلیوں، پیروں کی انگلیوں، کانوں اور جسم کے دیگر کھلے حصوں کو متاثر کرتا ہے۔

فراسٹ بائٹ کی ابتدائی علامات میں جلد کا پیلا پڑ جانا اور چھونے پر ٹھنڈا محسوس ہونا شامل ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مستقل اعصابی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائپوتھرمیا بھی شدید سرد موسم کا ایک بڑا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر میٹینا کے مطابق اگر ان علامات میں سے کوئی ظاہر ہو تو فوراً اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان علامات میں شدید کپکپی، ذہنی الجھن، چلنے میں لڑکھڑاہٹ یا توازن برقرار رکھنے میں دشواری شامل ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم تیزی سے حرارت کھو رہا ہے۔

ڈلیوری ورکرز اور گھوڑا گاڑی چلانے والوں سمیت کئی افراد کے پاس گھر میں رہنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایسے میں تیاری ہی سب سے مؤثر تحفظ ہے۔ ڈاکٹر میٹینا کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تہیں پہننا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تہہ در تہہ لباس جسم کی حرارت کو محفوظ رکھتا ہے۔اگر کسی کو محسوس ہو کہ وہ فراسٹ بائٹ یا ہائپوتھرمیا کے قریب ہے تو فوری اقدام جان بچا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جلد سے جلد جسمانی رابطہ، جیسے ٹھنڈے ہاتھوں کو بغلوں کے نیچے رکھنا، جسم میں حرارت بحال کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، جب تک مناسب پناہ یا طبی امداد میسر نہ آ جائے۔
